Fri, 06 Nov 2026 Stay informed. Stay aware.
Urdu

جہالت کی انتہا

سیدہ لڑکی کا غیر سید لڑکے سے شادی کا مسئلہ
 
 
تصویر میں نظر آنے والے یہ دو جاہل بزرگ اور لڑکا، سکردو میں اپنے معصوم بچوں اور شوہر کے ساتھ بے دردی سے قتل ہونے والی لڑکی کے باپ اور بھائی ہیں۔۔۔
ان دونوں کے ویڈیو بیانات سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہیں اور دونوں اس بہیمانہ قتل سے راضی ہیں اور وجہ یہ بتا رہے ہیں کہ لڑکی سید تھی اور جس سے شادی کی تھی وہ لڑکا غیر سید تھا۔۔۔
جہالت کی یہ انتہاء ہے کہ ان کے مطابق ایک سید لڑکی ایک غیر سید لڑکے سے شادی کرے تو وہ گناہِ کبیرہ ہے اور ایک جاہل اور دین سے نابلد سید بغیر کسی شرعی عدالت و قضاوت کے چار انسانوں کا وحشیانہ قتل کرے تو عینِ اسلامی عمل ہے۔۔۔
شریعتِ محمدی ص فقہ جعفری میں کسی بھی شخص کا گناہ صرف شرعی قاضی ہی ثابت کرسکتا ہے اور حد جاری کرسکتا ہے لیکن ان جاہلوں کی اپنی ہی شریعت ہے جس میں یہ کسی بھی انسان کے لئے خود ہی قاضی بن کر سزاء معین کرکے جاری بھی کر دیتے ہیں۔۔۔
رہی بات سید لڑکی کی شادی غیر سید لڑکے سے ہونے کی، تو شریعتِ محمدی ص، فقہ جعفری میں ایسی شادی سے کوئی ممانعت نہیں ہے۔۔۔
شیعہ فقہ اور تاریخ میں سیدہ “ہاشمی لڑکی” کا نکاح غیر سید “غیر ہاشمی” مسلمان لڑکے سے بالکل جائز اور صحیح ہے۔ اسلام میں رشتے اور شادی کا اصل معیار ایمان، اخلاق اور تقویٰ ہے، نہ کہ خاندان يا نسب۔۔۔
اس بات کو ثابت کرنے کے لیے شیعہ حدیث، تاریخ اور فقہ سے اہم دلائل درج ذیل ہیں:
1. قرآن اور اہل بیت ع کا اصل قانون:
شیعہ فقہ میں نکاح کے لیے “کفو” یعنی برابری کا مطلب خاندانی اونچ نیچ نہیں، بلکہ دین اور ایمان کی برابری ہے۔۔۔
قرآن مجید میں براہِ راست ذات، پات، نسب یا خاندانی تفاوت کے بنیادی تصور کو رد کیا گیا ہے اور رشتہ داری و عزت کا واحد معیار ایمان اور تقویٰ کو قرار دیا گیا ہے۔۔۔۔
سورۃ الحجرات، آیت 13میں خالقِ کائنات کا فرمانا ہے:
​يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ۔۔۔
اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔۔۔
سورۃ النور کی آیت 26 میں آیا ہے:
​الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ۔۔
ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے، اور پاک دامن عورتیں پاک دامن مردوں کے لیے ہیں اور پاک دامن مرد پاک دامن عورتوں کے لیے۔۔۔
اس آیتِ کریمہ میں معیار پاکیزگی کو قرار دیا گیا ہے اور پاکیزگی کا معیار ذات پات نہیں تقوی ہے۔۔۔
الکافی جلد پنجم باب النکاح میں حدیثِ نبوی ص ہے، رسول اللہ ص نے فرمایا:
الْمُؤْمِنُ كُفْؤٌ لِلْمُؤْمِنَةِ، وَالْمُسْلِمُ كُفْؤٌ لِلْمُسْلِمَةِ
مؤمن مرد مؤمنہ عورت کا کفو ہے، اور مسلم مرد مسلمہ عورت کا کفو ہے۔۔۔
2. اہل بیت ع کے دور کی تاریخی مثالیں:
تاریخ اور کتبِ حدیث میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جہاں سادات کی خواتین کے نکاح غیر سادات مردوں سے ہوئے:
حضرت ضباعہ بنت زبیر کا نکاح:
ضباعہ ،جو رسول اللہ ص کی چچا زاد بہن اور بنی ہاشم کی سیدہ تھیں کا نکاح آپ ص نے حضرت مقداد بن اسود سے کرایا، جو نہ قریشی تھے اور نہ ہی ہاشمی۔
الکافی میں امام جعفر صادق ع سے روایت ہے کہ نبی اکرم ص نے یہ نکاح اس لیے کروایا تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ اسلام میں عزت کا معیار صرف تقویٰ ہے، اور شادی بیاہ میں خاندانی تفریق ختم کی جا سکے۔
امام زین العابدین ع کا عمل:
کتاب الکافی کے مطابق، جب اموی حاکم عبدالملک بن مروان نے اعتراض کیا کہ آپ ع نے خاندانی نسب کا خیال کیوں نہیں رکھا، تو امام سجاد ؑ نے جواب دیا:
اللہ نے اسلام کے ذریعے ہر قسم کی جاہلی تفریق کو ختم کر دیا ہے۔ اب کوئی مسلمان ذلیل نہیں، اصل شرف تقویٰ ہے۔ خود رسول اللہ ص نے اپنی ہاشمی رشتہ دار خواتین کا نکاح غیر ہاشمیوں سے کیا تھا۔”
امام جعفر صادق ع کا فیصلہ:
احادیث میں ملتا ہے کہ امام جعفر صادق ع نے بھی اپنی بیٹی کا نکاح ایک غیر ہاشمی مسلم سے کیا۔ جب لوگوں نے تعجب کیا تو آپ ع نے وہی نبوی اصول دہرایا کہ “مؤمن ہی مؤمنہ کا برابر کا جوڑ (کفو) ہے”۔
3. تمام شیعہ مراجعِ عظام کے فتاویٰ
شیعہ علمائے کرام اور مراجعِ عظام اس بات پر متفق ہیں کہ سیدہ کا غیر سید سے نکاح شرعاً مکمل طور پر جائز ہے:
آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی حفظہ اللہ:
سوال: کیا سیدہ لڑکی کی شادی غیر سید لڑکے سے ہو سکتی ہے؟
جواب: جی ہاں، جائز ہے۔ شرعی طور پر اس میں کوئی مانع یا رکاوٹ نہیں ہے، بشرطیکہ لڑکا باایمان اور بااخلاق ہو۔
شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رح:
جواب: سیدہ عورت کا غیر سید مرد سے نکاح شرعاً بالکل جائز ہے اور خاندانی فرق اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
نوٹ: خود رہبر کی دو بیٹیوں کی شادیاں غیر سادات میں ہوئی ہیں۔
*آیت اللہ العظمیٰ سید ابو القاسم خوئی رح:
جواب: مؤمن مرد مؤمنہ عورت کا کفو ہے۔ لہٰذا سیدہ کا غیر سید مسلمان و مؤمن سے نکاح بغیر کسی اشکال کے صحیح ہے۔
خلاصہ یہ کہ سکردو میں ہونے والا قتل جہالت کا شاخسانہ ہے۔ اور قاتلین پشیمان ہونے کی بجائے جاہلانہ دلائل کے ساتھ اس قتل کو درست ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن افسوس ان پیجز اور افراد کے رویے پر بھی ہے جو ان قاتلوں کی وجہ سے ایک پوری قوم کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان پر بھی افسوس ہے جو قوم کے دفاع کے نام پر ان قاتلوں کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
SHARE THIS STORY

Send it to someone who should read it.

WhatsApp Facebook X Telegram
Private Notes

Sign in to add a private note to this story.

M Shifa Shamshiri
WRITTEN BY

M Shifa Shamshiri

Author

View all stories →

Join the discussion

Your email address will not be published. Required fields are marked *

CREED NETWORK

Stay informed. Stay aware.

Get Creed Times directly on the platforms you already use.