زرد صحافت کا چہرہ: بیانیے، مفادات اور سچ کی جنگ

زرد صحافت (Yellow Journalism) کوئی نئی اصطلاح نہیں، مگر اس کی موجودہ شکل پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور اثر انگیز ہو چکی ہے۔ آج یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ کوئی بھی صحافی مکمل طور پر غیر جانبدار یا نیوٹرل نہیں ہو سکتا۔ ہر فرد کسی نہ کسی نظریاتی، …

زرد صحافت (Yellow Journalism) کوئی نئی اصطلاح نہیں، مگر اس کی موجودہ شکل پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور اثر انگیز ہو چکی ہے۔ آج یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ کوئی بھی صحافی مکمل طور پر غیر جانبدار یا نیوٹرل نہیں ہو سکتا۔ ہر فرد کسی نہ کسی نظریاتی، فکری یا سماجی دائرے میں سوچتا اور اسی کے مطابق اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ اس حد تک صحافت نہ صرف قابلِ قبول ہے بلکہ ایک حد تک باوقار بھی، کیونکہ یہ کم از کم ایک فکری دیانتداری کی نمائندگی کرتی ہے۔

لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں صحافت نظریے سے نکل کر مفادات کی غلام بن جاتی ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ایک بڑی تعداد ایسے صحافیوں کی موجود ہے جو حقائق کے بجائے “لفافے” یا “فون کال” کے تحت اپنا بیانیہ بدلنے میں دیر نہیں لگاتے۔ حالیہ دنوں میں یہ رجحان خاص طور پر نمایاں ہوا، جب 28 فروری کو شروع ہونے والی کشیدگی سے لے کر مذاکرات کے مختلف مراحل تک، کچھ صحافی بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کرتے نظر آئے۔ کبھی ایک بیانیہ، کبھی اس کے برعکس اور ہر بار خود کو درست ثابت کرنے کی کوشش۔

یہی رویہ زرد صحافت کی اصل پہچان ہے۔

مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض ایسے صحافی، جو عمومی طور پر امریکہ کے خلاف ایک لفظ بھی ادا نہیں کرتے، آج کل ایران کے خلاف اخلاقی پولیس کا کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایران کو عالمِ اسلام کا دشمن، پاکستان کی سبکی کا باعث، اور دیگر سنگین الزامات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب عالمی سطح امریکہ اسرائیل کی غنڈا گردی، جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، اور خطے میں جاری طاقت کا کھیل واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔

یہ بیانیہ اس حقیقت کو بھی نظر انداز کرتا ہے کہ پاکستان ایک ثالث (mediator) کا کردار ادا کر رہا ہے، نہ کہ کوئی بالا دست فریق ہے جس کے احکامات من و عن مانے جائیں۔ اس کے باوجود میڈیا کے کچھ حلقے ایسا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے ایران پر دباؤ ڈالنا ہی واحد حل ہو۔

ایران کی قیادت اور سپاہ پاسداران کے خلاف چلنے والی منفی مہم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی یہ صحافت ہے یا کسی مخصوص ایجنڈے کی ترجمانی؟

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بحث نئی نہیں۔ ماضی میں بھی اس نوعیت کے بیانیے سامنے آتے رہے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق مرحوم جنرل حمید گل نے ایک تقریب میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ انقلابِ اسلامی ایران کے بعد امریکی CIA  نے انقلاب کو ایرانی سرحدوں کے اندر قید کرنے ٹاسک دے کر ڈالروں کی بارش کردی تھی ۔ اس واقعے کی تصدیق یا تردید اپنی جگہ، مگر یہ بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ میڈیا اور بیانیہ سازی ہمیشہ سے عالمی سیاست کا اہم حصہ رہے ہیں۔

دوسری طرف، عوامی سطح پر پاکستان میں ایک مختلف تصویر بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے ایران کے ساتھ یکجہتی کے مظاہر، امدادی سرگرمیاں، اور مذہبی و سماجی ہم آہنگی کے مناظر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوامی جذبات میڈیا کے ہر بیانیے کے تابع نہیں ہوتے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت کی اصل ذمہ داری سامنے آتی ہے۔

صحافت اگر سچ، توازن اور دیانتداری پر قائم رہے تو معاشرے کی رہنمائی کرتی ہے۔ لیکن جب یہ مفادات، دباؤ یا تعصب کی زد میں آ جائے تو نہ صرف اپنی ساکھ کھو دیتی ہے بلکہ معاشرتی تقسیم کو بھی گہرا کرتی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قاری خود بھی خبر اور تجزیے میں فرق کرنا سیکھے، سوال اٹھائے، اور ہر بیانیے کو بغیر تحقیق قبول نہ کرے۔ کیونکہ بالآخر، زرد صحافت صرف صحافی کا مسئلہ نہیں رہتی—یہ پورے معاشرے کے فکری معیار کو متاثر کرتی ہے۔

وقت ہی بتائے گا کہ کون سا بیانیہ سچ پر مبنی تھا اور کون مفادات کا عکاس۔
لیکن ایک بات طے ہے: سچ زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔

“ہم بھی دیکھیں گے، آپ بھی دیکھیے گا…”

سید کمیل نقوی
تھران
24 اپریل 2026

Syed Kumail Naqvi

Syed Kumail Naqvi

Keep in touch with our news & offers

Subscribe to Our Newsletter

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *