گریٹر اسرائیل کا ٹوٹتا ہوا تصور

اسرائیلی نیشن اسٹیٹ کے قیام، استحکام اور دوام کے متعدد عوامل میں سے ایک اہم ترین عنصر اسرائیلی آبادکار، یا زیادہ معروف اصطلاح میں settlers صیہونی اور یہودی لابی نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جو بیانیہ فروغ دیا، اس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ دنیا بھر میں یہودی کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ خوف …

اسرائیلی نیشن اسٹیٹ کے قیام، استحکام اور دوام کے متعدد عوامل میں سے ایک اہم ترین عنصر اسرائیلی آبادکار، یا زیادہ معروف اصطلاح میں settlers صیہونی اور یہودی لابی نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جو بیانیہ فروغ دیا، اس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ دنیا بھر میں یہودی کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

خوف کا بیانیہ اور اس کی ترویج
اسی تصور کے تحت 1950 کی دہائی سے باقاعدہ false flag operations کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں تیزی موجودہ اسرائیلی قاتل وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے والد کی سوچ کے زیرِ اثر آئی۔ اس بیانیے کے ذریعے یہ باور کروایا گیا کہ یہودی صرف اسرائیل میں محفوظ ہیں، یا پھر ایسی ریاستوں میں جو اسرائیل کی قریبی اتحادی ہوں۔


گریٹر اسرائیل کا خواب اور عالمی آبادکاری
اسی سوچ اور گریٹر اسرائیل کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر اسرائیل میں آباد کیا گیا۔ اس کی حالیہ مثال بھارت سے آنے والے یہودیوں کی ایک تعداد کی اسرائیل منتقلی ہے۔


7 اکتوبر 2023 کے بعد بدلتے حالات
لیکن اب حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ بالخصوص 7 اکتوبر 2023 کے واقعات اور اس کے بعد ایران سے کشیدگی نے نہ صرف دنیا بلکہ خود اسرائیلیوں کے سامنے بھی کئی حقائق واضح کر دیے ہیں۔ آئرن ڈوم جیسے دفاعی نظام، جسے ناقابلِ تسخیر قرار دیا جاتا تھا، اس کی کمزوریاں نمایاں ہوئیں۔


اسرائیلی معاشرے میں بے چینی
عالمی اداروں کی بعض رپورٹس کے مطابق اس وقت تقریباً 25 فیصد اسرائیلی آبادکار ملک چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں، جو ایک غیر معمولی شرح ہے۔ اسرائیل کی تقریباً 40 فیصد آبادی سیکولر (ہیولونی) یہودیوں پر مشتمل ہے، جو نسبتاً کم مذہبی رجحان رکھتے ہیں۔ ریاست کی بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی نے اس طبقے کو بھی متاثر کیا ہے۔


تنقیدی آراء اور داخلی تضادات
امریکی صحافی اور فلم ساز ایبی مارٹن کے مطابق اسرائیلی معاشرے کی اکثریت  انتہا پسند رجحانات رکھتا ہے ؛ جو جنگ کو ہی راہ حل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم، حالیہ کشیدگی اور مزاحمتی کارروائیوں نے اسرائیلی سکیورٹی نظام کی کمزوریاں بے نقاب کر دی ہیں۔


ہجرت کا بڑھتا رجحان
ان حالات کے باعث اسرائیل سے ہجرت کا رجحان بڑھ رہا ہے، اور امکان ہے کہ وقت کے ساتھ یہ تعداد مزید بڑھے گی۔ یہ رجحان اسرائیلی ریاست کے مستقبل کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے۔


اختتامی خیال
جیسا کہ قاعد اعظم محمد علی جناح سے منسوب ایک قول میں اسرائیل کو ایک خنجر سے تشبیہ دی گئی ہے،
اسی امید کے ساتھ کہ یہ خنجر جلد قلب امت سے نکل کر خود ہی اپنے بنانے والوں کی گردن پر چل جائے انتظار کرتے ہیں۔

Syed Kumail Naqvi

Syed Kumail Naqvi

Keep in touch with our news & offers

Subscribe to Our Newsletter

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *